Pages

Showing posts with label Kohesuleman. Show all posts
Showing posts with label Kohesuleman. Show all posts

Jangli Kabootar Ki Talaash 🐦 | Exciting Vlog Adventure | Wild Pigeon |

Jangli Kabootar Ki Talaash 🐦 | Exciting Vlog Adventure | Wild Pigeon | Embark on an exciting vlog adventure with me as we search for the elusive "Jangli Kabootar" (Wild Pigeon). Join the journey filled with nature exploration, birdwatching, and the thrill of discovering these beautiful creatures in their natural habitat. 🐦 #AdventureVlog #kohesuleman #janglikabootar

عمران خان ایکسپوز ہو گیا | سائفر کی سازشی کہانی

 PTI Chairman Imran Khan Exposed | Another audio leaked | audio leak | PTI exposed | Audio Scandal |

فیصلہ ہو گیا | مریم نواز کے بعد نوازشریف بری

 Faisla ho gea | Maryam Nawaz k Baad Nawaz Sharif ki szaa bhi khtm | Islamabad Highcourt | Audio leak

بلوچستان کے ضلع خضدار کے وسط میں واقع مُولا چٹوک

مُولا چٹوک

                  مُولا چٹوک ایک پوشیدہ گھاٹی ہے جو پاکستان کے جنوبی صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار کے وسط میں واقع ہے۔ یہ خضدار سے تقریبا  105 کلومیٹر (65 میل) شمال مشرق میں 1،237 میٹر (4،058 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ اونچی چٹانوں سے گھرا ہوا ، جھرن والا آبشار ، جسے چوٹوک کہا جاتا ہے ، سب تحصیل مولا کے سب سے بڑے آبشاروں میں سے ایک ہے۔

تاریخ

خضدار مکران کی براہوی سلطنت کا دارالحکومت تھا۔

تھور کھیر ، ہٹاچی ، ہاروو ، کیال وجود اور پاستا خان کے کھنڈرات مولا کا تعلق 2 ہزار سال پرانی تہذیب سے ظاہر کرتے ہیں۔ دریائے مولا جو ضلع خضدار کے پہاڑوں میں واقع ہے ، خضدار کے علاقے کا سب سے بڑا دریا ہے جو سال بھر بہتا رہتا ہے۔ وادی مولا 1237 میٹر لمبا کمان کے سائز کا علاقہ ہے جو ضلع خضدار سے 80 کلومیٹر (50 میل) دور ہے۔ اس کا نام مولا گاؤں اور دریا کے نام پر رکھا گیا ہے ، جو وادی کی لمبائی سے بہتا ہے۔ وادی کئی پہاڑی سلسلوں ، نمک کی کانوں ، جھیلوں اور آبشاروں کا گھر ہے۔

آبادیات

جہان   سب تحصیل مولا کے خوبصورت گاؤں میں سے ایک ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ آبادی 20،000 سے زیادہ ہے۔ مولا چھوٹوک کی مقامی زبان براہوی ہے۔

موسم

موسم گرما میں ، یہ سبی اور دادر جیسے ملک کے گرم ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ سردیوں میں یہ سرد ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ درجہ حرارت سال بھر میں بے حد مختلف ہوتا ہے ، موسم گرما میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 120 ° F (48.9 ° C) اور سردیوں کا کم سے کم درجہ حرارت بعض اوقات نقطہ انجماد سے نیچے گرتا ہے۔موسمی حالات پیدل سفر اور وادی کی تلاش کو بہت متاثر کر سکتے ہیں ، اور زائرین کو انتہائی درجہ حرارت اور موسم گرما کے آخر میں مون سون کی وجہ سے درپیش خطرات کی وجہ سے درست پیش گوئی کرنی چاہیے۔

moola chotok waterfalls | A Hidden Paradise| | Beauty of Balochistan | | OODKATV|


سہولیات سےمحروم کوہ سلیمان اورخاموش موت کینسر

 کینسر بھگاؤ     زندگی بچاؤ

کوہ سلیمان کے سنگلاخ پہاڑوں میں پلنے والا بچہ ایک پرسکون اور مہرو وفا کی آزان کے ساتھ بلوچ معاشرے میں ایک نواب کی طرح پاؤں رکھتا ہے,جس کا استقبال گولیوں کی گھن گرج اور دلفریب بلوچی رقص کے ساتھ سرخ خون کی قربانیوں سے کیا جاتاہے,وہ ایک انسانیت پرست سوشلسٹ سٹریکچر کے ایسے خاندان کا وارث ہوتاہے,جس سے یہاں کے ہر انسان کے لیے فیض کا چشمہ رواں ہوجاتا ہے,جو بلوچ معاشرے کے عظیم روایات کو اپنے زات اور مفاد سے بڑھ کر عزیز رکھتاہے,ایسے معاشرے کے مہمان نوازی,وطن داری اور ننگ ناموس جیسے وہ عظیم روایات جسے آباؤ اجداد نے خون دے کر پالا ہو.پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں سنادی جاتی ہیں,جیسے کسی عہدے کا حلف لیا جاتا ہے,

جب یہ نوجوان ایسے معاشرے میں کئی تکالیف اور ضروریاتِ زندگی کی تمام سہولیات سے محروم بھوک و افلاس سے جنگ لڑ کر خوداری سے جینے کی کوشش کرتا ہے,دنیا سے کئی صدیوں پیچھے اور قدرتی وسائل سے مالہ مال سرزمین کا یہ نوجوان ایک طرف تو کئی معاشی مسائل میں گھراہوتا ہے,تو دوسری طرف ایک ایسی موت لیوا بیماری اس کی نسلوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ایک بڑے ڈینڑ کی شکل میں نمودار ہوتا ہے,جو اسے صفہ ہستی سے مٹانے کی پرزور صلاحتیوں سے لیس ہے,جسے دنیا کینسر کے نام سے جانتی ہے,یہ ہوا اور پانی میں گھلے ہوئے زہر کی مانند ہے,جو انتہائی تیزی کے ساتھ یہاں کی نسلوں کے لیے خطرہ بن گیاہے,یہاں سے نکلے ہوئے یورینیم سے دشمن کی نسلیں مٹیں یا نہ مٹیں,مگر یہ زہر اس خطے کی نسلوں کے پھلنے پھولنے کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے,جس سرزمین نے اپنا سینہ چیر کر اپنے نومولود بچوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر اسے یہ نعمت عطاکی,جو خود اس کے لیے زحمت ثابت ہوئی ہے,

Koh-e-Suleman deprived of facilities and silent death cancer
Koh-e-Suleman deprived of facilities and silent death Cancer
جہاں ایک طرف اس دھات سے دنیا کو خطرہ ہے,وہیں اس کی قیمت کا تخمیہ لگانا بہت مشکل ہوگا,رواں سال ہندوستان میں پکڑے جانے والے 800 گرام یورینیم کی قیمت کئی کروڑ  انڈین  روپے بتائی جارہی تھی,پاکستانی ایک روپیہ ہندوستانی 2.13 انڈین روپے کے لگ بھگ برابر ہے,جس سے اس دھات کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے,ایک اندازے کے مطابق ڈی جی خان سے تقریباً سالانہ 16 ٹن کے قریب یورینیم نکلتاہے,جس کی قیمت کئی کھرب ڈالر بنتی ہے,ایک ایسا عظیم اور مالہ مال خطہ ڈی جی خان جو کئی قدرتی وسائل ہمیں نواز رہی ہے,اور یہ اتنا ہی زیادہ پسماندہ, غربت اور موزی امراض کا شکار ہے,

مالہ مال بلوچ خطے کی تعلیمی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے,کہ اتنے بڑے رقبے پہ محیط ریجن میں صرف چند پرائمری اور مڈل سکولز ہیں,

یہاں کی صحت کی صورتحال کی بات کی جائے تو کوئی طبعی امداد کی ڈسپنسری تک موجود نہیں,اور امراض کی بات کی جائے تو کینسر سمیت کئی موزی امراض یہاں کے لوگوں کے وجود کے لیے خطرہ ہیں,یہاں کئی قیمتی جانیں کینسر کی نظر ہوچکی ہیں,کئی ایسے لوگ ہیں,جو اس سے تڑپ رہے ہیں,ایسے میں اس خطے کے اندر جو چند ایک ہسپتال ہیں,ان میں کینسر کا وارڈ تک موجود نہیں,تو یہاں کے نام نہاد وڈیروں اور سرداروں کو اس کے لیے بلوچ ورنا(نوجوان) کے ساتھ مل کر اپنی آنے والے نسلوں کی بقاء کے لیے آواز بلند کرنا پڑے گا,

یہ   مہلک بیماری ہماری نسلوں کی افزائش کے خلاف نسلی کشی کا کردار ادا کرے گا,بغل چر  سے یورنیم نکال کر اور یورینیم کے فیشن ری ایکشن سے پیدا ہونے والے خطرناک شعائیں ہمیں پہلے پہل متاثر کرتی رہیں,اس کے بعد اس کے تمام ویسٹ مٹیریلز کو یہاں کھلے جگہوں پہ پھینک کر کینسر پھیلایا گیا,جو پانی کے ندیوں میں شامل ہوکر اہل وطن کے لیے زہر ثابت ہوئیں,یہاں کے انسان اور جانور انہی ندیوں کا پانی بغیر کسی فلٹریشن کے استعمال کرتے ہیں,جو یہاں کینسر کا سبب بن رہی ہے,

جس سے ہزاروں قیمتی جانیں کینسر کی نظر ہوچکی ہیں,اور اب ہمارے ہر نوجوان کی زندگی کو یہ خطرہ لاحق ہے,اس غیر قانونی طریقے کار کے خلاف کچھ نوجوان عدالتوں کے دروازوں پہ بھی دستک دے چکے,مگر اس کیس کو بھی ایک کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیاگیا,حکومت کو آنے والی نسلوں کی بقاء کے لیے یہاں کینسر کے ہسپتال فلٹر پلانٹ اور تحصیل تونسہ اور ڈی جی خان کے ہسپتالوں میں کینسر کے وارڈ بناکر یہاں کے لوگوں کو جینے کا حق دینا چاہیے,اور کینسر سے بچاؤ کے لیے ویسٹ مٹیریل کو نان ایکٹو کر کے زیر زمین بین الاقوامی جوہری قانون کے مطابق زیر زمین دفن کرنے کی پالیسی کو اپناکر یہاں کی نسلوں کو ان مہلک و موزی امراض سے پاک کرنا چاہیے۔

Koh-e-Suleman deprived of facilities and silent death cancer
Koh-e-Suleman deprived of facilities and silent death cancer


Koh-e-Suleman deprived of facilities and silent death cancer

غربت تو ہر جگہ ہے۔غربت سے آگے کچھ دیکھنا ہے

وہ  چاند  ہے  تو  عکس  بھی  پانی  میں  آئیگا،

کردار   خود   ابھر   کر   کہانی   میں   آئیگا

تحریر: شاہد اقبال قیصرانی

غربت  تو  ہر جگہ ہے۔غربت سے آگے کچھ دیکھنا ہےتو چلے جائیں تمن قیصرانی کے میلوں میل دور سنگلاخ پہاڑوں میں براستہ جالکی،کھشک را، کھوہ مار  دنیا خان ولد نصرت خان سکنہ چھکیں زام  جس کے ہاتھ کو بیس سال قبل اونٹ چبا کر کھا گیا تھا  انتہا  کی غربت چھونے کے باوجود خوداری اور ضمیر اتنا زندہ ہے کہ کسی سے ایک ٹکا بھی مانگنا توہین سمجھتے ہیں۔

ہائے رے غربت۔غربت سے آگے کچھ دیکھنا ہے تو  جائیں رمضو ولد چاکر سکنہ کروڈھا  کے پاس،اس سے بھی آگے کچھ دیکھنا اور سننا ہے تو جائیں عبدا لطیف ولد بشیر سکنہ  ڈگر بگڑی  کے ہاں۔اس کو تو احساس پروگرام سے بھی دور رکھا گیا۔بدقسمتی یہ کہ ایک پاؤں پولیو سے لنگڑا گیا اور ہاتھ تھریشر کی زد میں آگیا۔

Poverty is everywhere, there is something to be seen beyond poverty
Poverty is everywhere, but there is something to see beyond poverty

غربت سے آگے کچھ دیکھنا ہے تو جائیں  اجمل ولد قیصر  سکنہ سگ پھراہغ ۔اگر غربت کا پیمانہ دیکھنا ہے تو  جائیں مراد ولد لعل،منظور ولد شمشیر اور  اقبال ولد ہزار  سکنا چھکیں زام،اگر غربت کی لکیر کھینچنی ہے تو چلے جائیں  اللہ داد ولد پھیری سکنہ گزگر فتح والا،اور  قادر ولد اللہ ڈتہ سکنہ نیلوہر۔آپ ان کے ہاں جا کر غربت کی انتہا کو پہچان ضرور کر پائیں گے۔

اگر ان لوگوں سے بجلی،پانی،گیس کے بلوں،سکولز کی فیسوں، اشیائے خوردونوش کی بات کی جائے تو کہیں گے یہ کیا ہیں۔بھوک تو ایک پلیٹ سالن بھی مٹا دیتی ہے مگر یہاں پلیٹ بھی نہیں ہے۔اے علاقے کے امیرزادو یہ الفاظ غریبوں کیلئے نہیں لکھے ہیں بلکہ آپ کیلئے ہیں۔


Poverty is everywhere, but there is something to see beyond poverty in tuman Qaisrani Tehsil Kohesuleman Dera Ghazi Khan